طرف کش
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - طرف دار، حمایتی۔ "نہ کسی ایسی سازش میں کسی فریق کا شریک یا طرف کش ہوں۔" ( ١٩١٢ء، شباب لکھنؤ، ٦ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طرف' کے بعد فارسی مصدر 'کشیدن' سے صیغہ فعل امر 'کش' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٢ء کو "شباب لکھنؤ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - طرف دار، حمایتی۔ "نہ کسی ایسی سازش میں کسی فریق کا شریک یا طرف کش ہوں۔" ( ١٩١٢ء، شباب لکھنؤ، ٦ )